والدین کی ہمدردی: وہ ٹپس جو ہر ماں باپ کو معلوم ہونی چاہئیں

webmaster

부모의 공감력 키우기 - **Prompt for Emotional Understanding and Communication:**
    "A heartwarming and intimate portrait ...

ایک اچھے والدین بننا کوئی آسان کام نہیں، آج کے تیز رفتار اور بدلتے دور میں یہ اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے نہ صرف خوش رہیں بلکہ زندگی کی ہر مشکل کا سامنا بھی بہادری سے کر سکیں۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ اس سب کی بنیاد ہماری اپنی ہمدردی میں پنہاں ہے۔ جب ہم بچوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں، ان کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو اپنا سمجھتے ہیں، تو ایک مضبوط اور خوبصورت رشتہ خود بخود پروان چڑھتا ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کا بچہ کیوں چڑچڑا ہو جاتا ہے یا اپنی بات کیوں نہیں سنتا؟ یا آپ کو یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جدید دور کے چیلنجز، جیسے موبائل فون اور ڈیجیٹل میڈیا کی بڑھتی لت (ሱስ) میں بچوں کو کیسے سنبھالا جائے؟ ان سب سوالات کا جواب والدین کی بڑھتی ہمدردی میں چھپا ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کی دنیا کو ان کی نظر سے دیکھتے ہیں تو بہت سی مشکلات خود بخود حل ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے لیے بھی ذہنی سکون اور خوشی کا باعث بنتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپناتے ہیں اور ان کے ساتھ معیاری وقت گزارتے ہیں، تو بچے خود کو زیادہ محفوظ اور قابل قدر محسوس کرتے ہیں۔ اس سے ان کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ اپنے مسائل کو بغیر کسی خوف کے والدین کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ آئیے، آج ہم انہی باتوں پر غور کریں گے جو ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ ایک مضبوط اور گہرا جذباتی تعلق بنانے میں مدد دیں گی۔ نیچے دیئے گئے مضمون میں مزید تفصیلات سے جانتے ہیں!

بچوں کے جذبات کو سمجھنا: دل سے دل کا رشتہ

부모의 공감력 키우기 - **Prompt for Emotional Understanding and Communication:**
    "A heartwarming and intimate portrait ...

مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کے جذبات کو صرف سنتے ہی نہیں بلکہ انہیں گہرائی سے سمجھتے ہیں تو ایک ایسا رشتہ پروان چڑھتا ہے جو کسی بھی طوفان کا سامنا کر سکتا ہے۔ یہ محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتا، بلکہ دلوں کا آپس میں جڑ جانا ہوتا ہے۔ کئی بار ہم والدین کے طور پر بچوں کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں یا انہیں ’بچگانہ حرکت‘ سمجھ کر ٹال دیتے ہیں۔ مگر ذرا سوچیں، آپ کے لیے ایک مسئلہ کتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو، بچے کی دنیا میں وہ بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک مسکراہٹ یا ایک آنسو کے پیچھے چھپے جذبات کو پہچاننا، انہیں اہمیت دینا، ہی اصل ہمدردی ہے۔ جب آپ اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ ’میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں، تمہارا احساس میرے لیے اہم ہے‘، تو وہ آپ پر بھروسہ کرنا سیکھتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے بچے نہ صرف زیادہ خوش رہتے ہیں بلکہ ان میں خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، بس تھوڑا سا وقت اور پوری توجہ سے ان کی بات سننا ہے۔ انہیں بتائیں کہ ان کے ہر احساس کی قدر ہے، چاہے وہ غصہ ہو، خوف ہو یا خوشی۔ یہ طریقہ آپ کو ان کے دل کے قریب لے آئے گا۔

بچوں کے جذبات کو کیسے پہچانیں؟

بچوں کے جذبات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان کے غیر زبانی اشاروں پر بھی توجہ دیں۔ کبھی کبھی بچے اپنی پریشانیوں کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، لیکن ان کا چہرہ، ان کے جسم کی حرکات یا ان کا رویہ بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ اچانک چڑچڑا ہو جائے، یا اس کا موڈ خراب رہنے لگے، تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ وہ کسی اندرونی کشمکش کا شکار ہے۔ اس وقت، بجائے اس کے کہ آپ اسے ڈانٹیں، اس کے پاس بیٹھیں اور پیار سے پوچھیں کہ کیا ہوا ہے؟ اسے یہ یقین دلائیں کہ آپ اس کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔ میرے خیال میں، جب بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے والدین اسے واقعی سن رہے ہیں اور اس کے جذبات کی قدر کر رہے ہیں، تو وہ کھل کر اپنی بات بتاتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق بناتا ہے جہاں بچے کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ اسے سمجھا نہیں جائے گا۔

جذباتی ردعمل کا صحیح طریقہ

جب بچے اپنے جذبات کا اظہار کریں، خواہ وہ غصے میں ہوں یا رونے کی حالت میں، تو ہمارا ردعمل بہت اہم ہوتا ہے۔ بہت سے والدین غصے میں بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ ’چھوٹی سی بات پر رو کیوں رہے ہو؟‘ یہ طریقہ اکثر الٹا پڑ جاتا ہے اور بچہ اپنے جذبات کو چھپانا شروع کر دیتا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اس کے بجائے آپ یہ کہیں، ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ تمہیں بہت غصہ آ رہا ہے‘ یا ’تمہیں دکھ ہو رہا ہو گا‘۔ اس طرح بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے جذبات کو تسلیم کیا جا رہا ہے، اور وہ اکیلا نہیں ہے۔ یہ اسے اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ جب انسان کے جذبات کو سمجھا جاتا ہے تو وہ خود بخود پرسکون ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ایک سیکھنے کا عمل ہے جو بچے کو جذباتی طور پر مضبوط بناتا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اپنے جذبات کو بہتر طریقے سے سنبھال پاتا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی رہنمائی: سکرین ٹائم کا چیلنج

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور اس میں بچوں کو موبائل فون اور ڈیجیٹل میڈیا سے دور رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ یہ اب ایک ضرورت بن چکی ہے کہ ہم بچوں کو اس ڈیجیٹل دنیا میں صحیح طریقے سے رہنمائی فراہم کریں۔ محض پابندیاں لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ اکثر بچے چھپ کر موبائل استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں جو تعلقات میں دوری پیدا کرتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ والدین کو اس بارے میں باخبر رہنا چاہیے کہ ان کے بچے کیا دیکھ رہے ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں اور کتنا وقت سکرین پر گزار رہے ہیں۔ یہ صرف نگرانی نہیں بلکہ ایک صحت مند ڈیجیٹل ماحول بنانے کا حصہ ہے۔ ہمیں انہیں سکھانا ہو گا کہ ڈیجیٹل دنیا ایک دو دھاری تلوار ہے، جہاں مفید معلومات بھی ہیں اور نقصان دہ مواد بھی۔ میرے تجربے میں، جب والدین خود مثال قائم کرتے ہیں، یعنی وہ بھی اپنا سکرین ٹائم کم کرتے ہیں اور بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارتے ہیں، تو بچے بھی اس بات کو زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں۔ یہ ایک متوازن زندگی کی بنیاد ہے جہاں ڈیجیٹل ٹولز زندگی کا حصہ تو ہوں لیکن اس پر حاوی نہ ہوں۔

سکرین ٹائم کے صحت مند اصول بنانا

سکرین ٹائم کو لے کر گھر میں واضح اصول بنانا بے حد ضروری ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جن گھروں میں اس حوالے سے کوئی گائیڈ لائنز نہیں ہوتیں، وہاں بچے اکثر بے قابو ہو جاتے ہیں اور ان کا سارا وقت موبائل یا ٹیبلٹ پر گزرنے لگتا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ بنیادی اصول طے کریں، جیسے کہ سکرین کا استعمال کب اور کتنا کرنا ہے، سونے سے پہلے سکرین سے دور رہنا، اور کھانا کھاتے وقت موبائل کا استعمال نہ کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں متبادل سرگرمیوں کا بھی موقع دیں، جیسے کہ کتابیں پڑھنا، کھیل کود میں حصہ لینا، یا فیملی کے ساتھ وقت گزارنا۔ یہ صرف وقت کی تقسیم نہیں بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک بار میں نے اپنے ایک دوست کو دیکھا، اس نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر ایک “فیملی میڈیا پلان” بنایا، جس میں سب نے مل کر سکرین ٹائم کے قوانین بنائے اور سب اس پر عمل کرتے تھے۔ اس سے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے۔

آن لائن سیفٹی اور مواد کی نگرانی

ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ آج کل انٹرنیٹ پر ہر طرح کا مواد موجود ہے، اور بچوں کو اس سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ کا بچہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھ رہا ہے اور کس سے بات چیت کر رہا ہے۔ میں نے اپنے تجربے میں سیکھا ہے کہ صرف پابندیاں لگانے سے کام نہیں چلتا بلکہ انہیں صحیح اور غلط کی تمیز سکھانا بھی ضروری ہے۔ انہیں آن لائن خطرات، جیسے سائبر بلینگ اور نامناسب مواد، کے بارے میں بتائیں اور انہیں یہ سکھائیں کہ اگر انہیں کوئی پریشانی ہو تو وہ بغیر کسی خوف کے آپ سے بات کر سکیں۔ کچھ ایسی ایپس اور ٹولز بھی دستیاب ہیں جو بچوں کے آن لائن مواد کو فلٹر کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے بچے کے ساتھ ایک مضبوط اور قابل اعتماد رشتہ قائم کریں تاکہ وہ کسی بھی مشکل میں آپ سے رجوع کر سکے۔ یہ ان کی آن لائن سیفٹی کو یقینی بنانے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔

خصوصیت ہدایت
وقت کا تعین روزانہ سکرین کے استعمال کے لیے مخصوص وقت مقرر کریں۔
مقام موبائل اور ٹی وی کا استعمال مشترکہ خاندانی جگہوں تک محدود رکھیں۔
مواد کی جانچ بچوں کو ایسے مواد تک رسائی دیں جو ان کی عمر کے مطابق اور تعلیمی ہو۔
مثال قائم کریں والدین خود بھی سکرین کے استعمال میں توازن رکھیں۔
بات چیت بچوں سے سکرین کے مثبت اور منفی اثرات پر کھلی گفتگو کریں۔
متبادل سرگرمیاں بچوں کو جسمانی سرگرمیوں اور کتاب بینی کی ترغیب دیں۔
Advertisement

موثر بات چیت: اپنے بچے کے بہترین دوست بنیں

ایک مؤثر بات چیت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے بچے کو کچھ بتائیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اسے گہری توجہ سے سنیں اور اسے اپنی رائے دینے کا موقع دیں۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے اور ان کی رائے کی قدر کی جا رہی ہے، تو وہ زیادہ کھل کر بات کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا رشتہ بناتا ہے جہاں بچہ اپنے والدین کو اپنا بہترین دوست سمجھتا ہے اور کسی بھی مسئلے پر ان سے مشورہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ یہ بات چیت دو طرفہ ہونی چاہیے، جہاں آپ صرف حکمرانی نہ کریں بلکہ ایک ساتھی کے طور پر ان کے ساتھ گفتگو کریں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے بچے جو اپنے والدین کے ساتھ آزادانہ طور پر بات چیت کرتے ہیں، وہ زندگی کے چیلنجز کا سامنا بہتر طریقے سے کر پاتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے ایک مضبوط سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ایک چھوٹا بچہ ہے بلکہ ایک ایسا فرد ہے جس کی آراء کی اہمیت ہے۔

سنجیدگی سے سننے کی عادت

سنجیدگی سے سننا صرف جسمانی طور پر موجود ہونا نہیں، بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بچے کی بات پر توجہ دینا ہے۔ جب آپ کا بچہ آپ سے بات کر رہا ہو، تو اپنا فون ایک طرف رکھ دیں، ٹی وی بند کر دیں، اور پوری توجہ سے اس کی بات سنیں۔ اسے دکھائیں کہ آپ واقعی دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ آپ کے بچے کو یہ احساس دلائے گا کہ وہ آپ کی ترجیح ہے اور اس کی باتیں اہم ہیں۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی بات سنتے ہوئے کوئی اور کام بھی کر رہے ہوتے ہیں، جس سے بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جا رہی۔ اس کے بجائے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں، سر ہلا کر اس کی بات کی تصدیق کریں، اور اگر ضروری ہو تو سوالات بھی پوچھیں۔ یہ بچے کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ مزید کھل کر بات کرے اور اپنے دل کی بات آپ کے سامنے رکھے۔ یہ چھوٹی سی عادت آپ کے اور آپ کے بچے کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

غیر فیصلہ کن رویہ

جب آپ کا بچہ آپ سے کوئی بات شیئر کرے، تو اسے فوراً فیصلہ کرنے یا اس پر تنقید کرنے سے گریز کریں۔ میں نے اپنے تجربے میں یہ بات سیکھی ہے کہ اگر آپ فوراً بچے کی بات پر فیصلہ سنانا شروع کر دیں گے تو وہ آئندہ آپ سے بات کرنے سے کترائے گا۔ اس کے بجائے، ایک غیر فیصلہ کن رویہ اپنائیں اور اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ کسی بھی بات پر آپ سے کھل کر بات کر سکتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی یا بڑی کیوں نہ ہو۔ اسے یہ یقین دلائیں کہ آپ ہمیشہ اس کا ساتھ دیں گے اور اس کے مسائل کو حل کرنے میں مدد کریں گے۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ آپ کو بتائے کہ اس نے کوئی غلطی کی ہے، تو فوراً غصہ کرنے کے بجائے اسے یہ بتائیں کہ ’کوئی بات نہیں، غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں، چلو دیکھتے ہیں اسے کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے‘۔ یہ رویہ بچے کو سکھاتا ہے کہ وہ آپ پر بھروسہ کر سکتا ہے اور آپ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یہ ایک مضبوط جذباتی بنیاد فراہم کرتا ہے جہاں تعلقات اعتماد اور احترام پر مبنی ہوتے ہیں۔

حدود کا تعین اور نظم و ضبط: محبت اور مضبوطی کا توازن

اچھے والدین بننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے بچوں کی ہر بات مانیں یا انہیں ہر چیز کی کھلی چھوٹ دے دیں۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ بچوں کی پرورش میں حدود کا تعین اور نظم و ضبط بہت اہم ہے۔ یہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں کچھ اصول ہوتے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ محبت اور مضبوطی کا توازن قائم رکھنا ایک فن ہے جو ہر والدین کو سیکھنا چاہیے۔ جب آپ اپنے بچوں کے لیے واضح حدود مقرر کرتے ہیں تو انہیں ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان سے کیا توقع کی جا رہی ہے۔ یہ انہیں خود نظم و ضبط سکھاتا ہے اور انہیں ذمہ دار بناتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جن بچوں کے لیے گھر میں واضح اصول ہوتے ہیں، وہ زیادہ پرسکون اور بہتر رویے کے مالک ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں پتا ہوتا ہے کہ کہاں تک جانا ہے اور کہاں رک جانا ہے۔ یہ انہیں سماجی زندگی میں بھی مدد دیتا ہے، کیونکہ وہ معاشرے کے اصولوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ محبت کی کمی نہیں بلکہ محبت کا ہی ایک حصہ ہے جو انہیں ایک بہتر انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔

واضح اور مستقل قوانین

گھر میں قوانین واضح اور مستقل ہونے چاہئیں۔ بچوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کون سے کام کی اجازت ہے اور کون سے کام کی نہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ قوانین ہر وقت یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ والدین کبھی کبھار کسی غلطی پر بچے کو ڈانٹتے ہیں اور کبھی اسی غلطی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ بچے کو الجھا دیتا ہے اور وہ سمجھ نہیں پاتا کہ اسے کس بات پر سزا ملے گی اور کس پر نہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ گھر کے تمام افراد، خاص طور پر والدین، ایک ہی صفحے پر ہوں اور قوانین کو یکساں طور پر نافذ کریں۔ اگر ایک بار کوئی اصول طے ہو جائے تو پھر اس پر عمل درآمد بھی مستقل ہونا چاہیے۔ یہ بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرتا ہے اور انہیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں مستقل مزاجی کتنی ضروری ہے۔ اس سے انہیں اپنے رویے کے نتائج کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے اور وہ ذمہ داری کا احساس سیکھتے ہیں۔

مثبت نظم و ضبط کے طریقے

نظم و ضبط کا مطلب صرف سزا دینا نہیں ہے۔ حقیقت میں، مثبت نظم و ضبط کے طریقے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے تجربے میں یہ بات سیکھی ہے کہ جب آپ بچے کو اس کے اچھے رویے پر سراہتے ہیں اور اسے انعام دیتے ہیں، تو وہ اس اچھے رویے کو مزید اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر بچے نے اپنا کمرہ صاف کیا ہے تو اسے صرف یہ کہنے کے بجائے کہ ’گڈ جاب‘، اسے بتائیں کہ ’مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنا کمرہ صاف کیا، اس سے گھر کتنا اچھا لگ رہا ہے‘۔ اس طرح بچے کو اپنے اچھے کام کی قدر محسوس ہوتی ہے۔ اگر اس نے کوئی غلطی کی ہے، تو اسے سزا دینے کے بجائے اس غلطی کے نتائج سمجھائیں اور اسے موقع دیں کہ وہ اپنی غلطی کو سدھار سکے۔ جیسے کہ، اگر اس نے کھلونا توڑا ہے تو اسے نیا کھلونا خریدنے کی بجائے اسے خود جوڑنے یا کسی اور کام میں مدد کرنے کا موقع دیں۔ یہ اسے ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور غلطیوں سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Advertisement

غلطیوں سے سیکھنے کی ترغیب: ناکامی کو کامیابی میں بدلنا

부모의 공감력 키우기 - **Prompt for Digital Guidance and Healthy Boundaries:**
    "A modern family scene depicting a paren...

زندگی میں غلطیاں کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے بچے بھی غلطیاں کریں گے، اور یہ بالکل فطری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم انہیں یہ سکھائیں کہ غلطیوں سے کیسے سیکھا جاتا ہے اور ناکامی کو کامیابی کی سیڑھی کیسے بنایا جاتا ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کی غلطیوں پر فوراً غصہ کرتے ہیں یا انہیں شرمندہ کرتے ہیں، جس سے بچہ خوف زدہ ہو کر آئندہ غلطی کرنے سے بچنے کی بجائے غلطی کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ ہر غلطی ایک سبق ہے، اور اس سے سیکھ کر ہم بہتر ہو سکتے ہیں۔ جب ہم انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ’کوئی بات نہیں، تم نے کوشش کی اور اب تم اس سے کچھ نیا سیکھو گے‘، تو ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے اور وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے سے گھبراتے نہیں۔ یہ ایک ایسا مثبت رویہ ہے جو انہیں زندگی بھر مدد دیتا ہے اور انہیں یہ سکھاتا ہے کہ ناکامی کا مطلب سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نیا آغاز ہے۔

غلطیوں کو سیکھنے کا موقع بنانا

بچوں کی غلطیوں کو سزا کا ذریعہ بنانے کے بجائے، انہیں سیکھنے کا موقع بنائیں۔ اگر بچہ کسی ٹیسٹ میں اچھے نمبر نہیں لا سکا، تو بجائے اس کے کہ آپ اسے ڈانٹیں، اس کے ساتھ بیٹھ کر دیکھیں کہ کہاں کمی رہ گئی تھی۔ اسے یہ احساس دلائیں کہ یہ صرف ایک عارضی صورتحال ہے اور وہ مزید محنت کر کے بہتر کر سکتا ہے۔ میرے تجربے میں، جب بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے والدین اسے سپورٹ کر رہے ہیں، تو وہ زیادہ بہتر طریقے سے کارکردگی دکھاتا ہے۔ اسے حل تلاش کرنے میں مدد دیں، نہ کہ صرف مسئلہ کی نشاندہی کریں۔ اسے یہ سکھائیں کہ غلطیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔ یہ اسے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔ یہ ایک ایسی ذہنی تربیت ہے جو اسے مستقبل میں کسی بھی رکاوٹ کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔

خود اعتمادی کو فروغ دینا

بچوں میں خود اعتمادی کو فروغ دینا بہت ضروری ہے، خاص طور پر جب وہ غلطیاں کرتے ہیں۔ جب بچے کسی کام میں ناکام ہوتے ہیں، تو ان میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہمارا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ہمیں انہیں یہ یاد دلانا چاہیے کہ ان کی کوشش اور لگن خود ایک کامیابی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ سائیکل چلانا سیکھ رہا ہے اور گر جاتا ہے، تو اسے یہ نہ کہیں کہ ’تم سے نہیں ہو گا‘، بلکہ اسے یہ کہیں کہ ’بہت اچھے! تم نے کوشش کی، اور دیکھو تم پہلے سے بہتر کر رہے ہو، بس تھوڑی اور ہمت کرو‘۔ یہ اسے دوبارہ کوشش کرنے کی ترغیب دے گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے والدین اس پر یقین رکھتے ہیں، تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسے چھوٹے چھوٹے اہداف حاصل کرنے میں مدد دیں اور جب وہ کامیاب ہو تو اس کی تعریف کریں، تاکہ اس میں مزید حوصلہ پیدا ہو۔ یہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف منزل نہیں، بلکہ سفر کا حصہ ہے، اور ہر چھوٹی کوشش بھی اہمیت رکھتی ہے۔

والدین کی ذہنی صحت: اپنے آپ کا خیال رکھنا بھی ضروری

والدین بننا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، اور اس میں اکثر ہم اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ اگر والدین خود ذہنی طور پر پرسکون اور خوش نہیں ہوں گے، تو وہ اپنے بچوں کی بہترین پرورش نہیں کر پائیں گے۔ آپ کا تناؤ، آپ کی پریشانی، بچوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسے جہاز میں آکسیجن ماسک لگاتے وقت پہلے خود کو لگانے کا کہا جاتا ہے، اسی طرح والدین کو بھی پہلے اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ کوئی خود غرضی نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ جب آپ خود تروتازہ اور توانائی سے بھرپور ہوں گے تو ہی آپ اپنے بچوں کو وہ محبت اور توجہ دے پائیں گے جس کے وہ حقدار ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب والدین خود کے لیے وقت نکالتے ہیں، چاہے وہ کوئی بھی چھوٹی موٹی سرگرمی ہو، جیسے کتاب پڑھنا، واک کرنا، یا دوستوں سے ملنا، تو وہ زیادہ مثبت اور صابر بن جاتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ اپنے بچوں کے لیے ایک مثال ہیں، اور ایک خوش اور پرسکون والدین ایک خوش اور پرسکون گھر کی بنیاد ہیں۔

خود کے لیے وقت نکالنا (Self-Care)

خود کے لیے وقت نکالنا بہت ضروری ہے۔ کئی بار والدین یہ سوچتے ہیں کہ وہ اگر خود کے لیے وقت نکالیں گے تو وہ اپنے بچوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب آپ خود کو ریفریش کرتے ہیں، تو آپ اپنے بچوں کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے موجود ہوتے ہیں۔ یہ کوئی بڑا کام نہیں ہونا چاہیے؛ بس روزانہ 15-20 منٹ نکالیں جو صرف آپ کے ہوں۔ میں نے اپنے تجربے میں دیکھا ہے کہ اگر آپ ایک چھوٹی سی واک پر چلے جائیں، اپنی پسند کا کوئی میوزک سن لیں، یا صرف خاموشی سے بیٹھ کر چائے کا کپ پی لیں، تو یہ آپ کی ذہنی حالت پر بہت مثبت اثر ڈالتا ہے۔ اس سے آپ کا تناؤ کم ہوتا ہے اور آپ میں نئی توانائی آتی ہے، جس کے بعد آپ بچوں کے ساتھ زیادہ صبر اور محبت سے پیش آ سکتے ہیں۔ اس لیے، خود کو وقت دینا نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ کے پورے خاندان کے لیے فائدے مند ہے۔

تناؤ کو سنبھالنے کے طریقے

والدین کو اکثر بہت سے تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ بچوں کی پرورش کا ہو، کام کا ہو یا گھریلو ذمہ داریوں کا۔ میں نے اپنے تجربے میں سیکھا ہے کہ ان تناؤ کو مؤثر طریقے سے سنبھالنا بہت ضروری ہے۔ تناؤ کو دبانے کے بجائے، اسے صحیح طریقے سے باہر نکالنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے کچھ طریقے ہیں، جیسے کہ اپنے پارٹنر سے بات کرنا، کسی دوست یا خاندان کے ممبر سے اپنی پریشانیاں شیئر کرنا۔ اگر ضرورت ہو تو کسی ماہر سے بھی مشورہ لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ اس کے علاوہ، باقاعدگی سے ورزش کرنا، صحت مند غذا لینا، اور کافی نیند لینا بھی تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ میرے خیال میں، جب آپ اپنے تناؤ کو سنبھالنے کے قابل ہوتے ہیں، تو آپ اپنے بچوں کے لیے ایک زیادہ پرسکون اور مثبت ماحول فراہم کر پاتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ اکیلے نہیں ہیں جو ان چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، بہت سے والدین اس صورتحال سے گزرتے ہیں، اور مدد مانگنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

Advertisement

مثبت ماحول کی تشکیل: گھر کو محبت کا گہوارہ بنانا

ایک بچے کی پرورش میں سب سے اہم عنصر گھر کا ماحول ہوتا ہے۔ مجھے اپنے تجربے میں یہ بات ہمیشہ سے محسوس ہوتی ہے کہ ایک مثبت اور محبت بھرا ماحول بچے کی شخصیت کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ صرف اچھی گفتگو یا کھانے پینے کی چیزوں کی فراہمی نہیں، بلکہ یہ احساس ہے کہ گھر ایک ایسی جگہ ہے جہاں اسے تحفظ، محبت اور قبولیت ملتی ہے۔ جب گھر میں پیار، احترام اور ہمدردی کا ماحول ہوتا ہے تو بچے خود بخود مثبت رویے اپناتے ہیں اور انہیں دنیا کا سامنا کرنے کی ہمت ملتی ہے۔ اس ماحول کی تشکیل والدین کی مشترکہ کوشش سے ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جن گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنسی مذاق ہوتا ہے، ایک دوسرے کی مدد کی جاتی ہے، اور آپس میں پیار کا اظہار کیا جاتا ہے، وہاں بچے زیادہ خوش اور پرسکون رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گہوارہ ہے جہاں بچہ نہ صرف جسمانی طور پر بڑھتا ہے بلکہ جذباتی، ذہنی اور روحانی طور پر بھی مضبوط ہوتا ہے۔ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی بنیاد ہے۔

محبت اور احترام کا اظہار

اپنے بچوں کے ساتھ محبت اور احترام کا کھلم کھلا اظہار کریں۔ انہیں گلے لگائیں، پیار دیں، اور انہیں بتائیں کہ آپ ان سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے والدین محبت کا اظہار کرنے میں ہچکچاتے ہیں یا یہ سوچتے ہیں کہ بچے بڑے ہو گئے ہیں تو اب پیار کی کیا ضرورت۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کو ہر عمر میں اپنے والدین کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ احترام کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی رائے کو اہمیت دیں، ان کی بات سنیں، اور ان کے انتخاب کی قدر کریں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ گھر کے ایک اہم رکن ہیں اور ان کی موجودگی گھر میں خوشیاں لاتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب آپ کسی فیملی فیصلے پر گفتگو کر رہے ہوں تو بچوں کو بھی اپنی رائے دینے کا موقع دیں اور اگر ممکن ہو تو ان کی رائے کو بھی شامل کریں۔ یہ انہیں خود اعتمادی دیتا ہے اور انہیں یہ سکھاتا ہے کہ احترام کیا ہوتا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔

سپورٹ اور حوصلہ افزائی

بچوں کو ہر قدم پر آپ کی سپورٹ اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاہے وہ اسکول کا کوئی پراجیکٹ ہو، کوئی نیا کھیل ہو، یا کوئی چیلنج ہو، انہیں یہ یقین دلائیں کہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔ انہیں بتائیں کہ آپ ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔ میں نے اپنے تجربے میں یہ سیکھا ہے کہ جب بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے والدین اس کی پشت پر ہیں، تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتا۔ اگر وہ کسی کام میں ناکام بھی ہو جائے تو اسے حوصلہ دیں کہ وہ دوبارہ کوشش کرے اور اسے بتائیں کہ آپ کو اس پر پورا بھروسہ ہے۔ اس سے ان میں مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے اور وہ مستقبل میں بھی مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا اعتماد پیدا کرتا ہے جو ان کی زندگی بھر کی کامیابیوں کی بنیاد بنتا ہے۔

اختتامیہ

مجھے یہ یقین ہے کہ آپ نے اس طویل لیکن پرمعلومات سفر سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ والدین کے طور پر، ہمارا مقصد صرف اپنے بچوں کو کھلانا پلانا اور ان کی جسمانی ضروریات پوری کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں ایک ایسا انسان بنانا ہوتا ہے جو جذباتی طور پر مضبوط ہو، معاشرتی طور پر کامیاب ہو اور زندگی کے ہر چیلنج کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔ یہ ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے، جہاں ہم کبھی کامیاب ہوتے ہیں اور کبھی تھوڑا سا پیچھے رہ جاتے ہیں، لیکن سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم کوشش کرتے رہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی محبت، توجہ اور رہنمائی ہی وہ بنیاد ہے جس پر آپ کے بچے کی شخصیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم ان تمام باتوں کا خیال رکھیں گے تو مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے بچے ایک بہتر اور خوشگوار زندگی گزار سکیں گے اور معاشرے کے لیے ایک فعال اور مثبت رکن بن سکیں گے۔ یہ سفر واقعی صبر، محبت اور سمجھ بوجھ کا متقاضی ہے، مگر اس کا پھل بہت میٹھا ہوتا ہے۔

Advertisement

جاننے کے لیے مفید معلومات

1. بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں: محض جسمانی موجودگی کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کریں، ان کے کھیل میں شامل ہوں اور ان کی کہانیوں کو پوری توجہ سے سنیں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ وہ آپ کے لیے کتنے اہم ہیں۔

2. جذبات کو نام دینا سکھائیں: جب بچے غصے، پریشانی یا خوشی کا اظہار کریں، تو انہیں ان احساسات کو نام دینا سکھائیں، جیسے “لگتا ہے تم بہت غصے میں ہو” یا “تمہیں یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہوگی۔” یہ انہیں اپنے جذبات کو سمجھنے اور سنبھالنے میں مدد دیتا ہے۔

3. سکرین ٹائم کے لیے اصول مقرر کریں: ڈیجیٹل آلات کا استعمال ایک ضرورت بن چکا ہے، لیکن اس کے لیے واضح اور مستقل اصول بنائیں کہ بچے کب، کتنا اور کیا دیکھ سکتے ہیں۔ سونے سے پہلے اور کھانے کے دوران سکرین کے استعمال سے گریز کی ترغیب دیں۔

4. آزادی اور ذمہ داری کا احساس دلائیں: بچوں کو چھوٹے موٹے کام کرنے کی اجازت دیں اور انہیں ان کی عمر کے مطابق ذمہ داریاں سونپیں تاکہ ان میں خود اعتمادی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہو سکے۔

5. والدین اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں: والدین کا خود ذہنی طور پر پرسکون اور خوش رہنا بے حد ضروری ہے کیونکہ آپ کا تناؤ بچوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ خود کے لیے وقت نکالیں اور تناؤ کو سنبھالنے کے طریقے اپنائیں۔

اہم نکات کا خلاصہ

والدین اور بچوں کا رشتہ اعتماد، احترام اور محبت کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ بچوں کے جذبات کو سمجھنا، انہیں غیر فیصلہ کن انداز میں سننا، اور انہیں اپنے مسائل حل کرنے کے مواقع فراہم کرنا انہیں جذباتی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں رہنمائی کرتے ہوئے سکرین ٹائم کے واضح اصول طے کریں اور آن لائن حفاظت کو یقینی بنائیں۔ مثبت نظم و ضبط کے ذریعے غلطیوں سے سیکھنے کی ترغیب دیں اور انہیں خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں۔ سب سے بڑھ کر، ایک ایسا مثبت گھریلو ماحول بنائیں جہاں محبت اور احترام کا راج ہو اور بچے یہ محسوس کریں کہ وہ ہر حال میں سپورٹ کیے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کی اپنی ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا آپ کے بچوں کی، کیونکہ ایک خوش اور پرسکون والدین ہی ایک خوشگوار گھر کی بنیاد بناتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: والدین اپنے بچوں کے جذبات کو صحیح معنوں میں کیسے سمجھ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق کیسے قائم کر سکتے ہیں؟

ج: میرے پیارے قارئین، یہ سوال ایسا ہے جو ہر والدین کے دل میں ہوتا ہے۔ سچ کہوں تو، بچوں کے جذبات کو سمجھنا ایک ایسا سفر ہے جو صرف ان کی باتوں کو سننے سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اس میں ان کے اشاروں، ان کے چہرے کے تاثرات اور ان کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں کو بھی سمجھنا شامل ہے۔ میں نے اپنے تجربے میں یہ بات محسوس کی ہے کہ جب ہم واقعی اپنے بچوں کو وقت دیتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگیں، تو ایک مضبوط رشتہ خود بخود بننا شروع ہو جاتا ہے۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کے ہر چھوٹے بڑے احساس کی قدر کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو بس اتنا کہہ دینا کہ “میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم اس وقت کیسا محسوس کر رہے ہو” یا “مجھے پتا ہے کہ یہ بات تمہیں پریشان کر رہی ہے” ہی بہت ہوتا ہے۔ بچوں کو یہ جان کر اطمینان ہوتا ہے کہ ان کے والدین ان کے ساتھ ہیں اور ان کی دنیا کو اپنی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ وہ آپ سے کھل کر بات کرنے لگتے ہیں، جو کہ کسی بھی رشتے کی بنیاد ہے۔

س: آج کے دور میں بچوں کی موبائل فون اور ڈیجیٹل میڈیا کی بڑھتی ہوئی لت (ሱስ) کو کیسے سنبھالا جائے؟

ج: یہ آج کل کے والدین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ والدین اس مسئلے پر بہت پریشان رہتے ہیں۔ اس لت سے چھٹکارا پانے کا سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم خود ایک مثال بنیں۔ اگر ہم خود سارا دن فون میں لگے رہیں گے تو بچوں سے کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔ میرے خیال میں، اس کا بہترین حل یہ ہے کہ گھر میں کچھ اصول و ضوابط بنائے جائیں جو سب پر لاگو ہوں۔ مثلاً، کھانے کے وقت یا سونے سے پہلے فون کا استعمال نہ کیا جائے۔ بچوں کے لیے وقت مقرر کریں کہ وہ کب اور کتنا وقت ڈیجیٹل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں متبادل سرگرمیوں کی طرف راغب کریں، جیسے کتابیں پڑھنا، باہر کھیلنا، یا کوئی ہنر سیکھنا۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب بچے بور ہوتے ہیں تو وہ زیادہ فون استعمال کرتے ہیں، اس لیے انہیں مصروف رکھنا بہت ضروری ہے۔ ان کے ساتھ کھل کر بات کریں کہ ڈیجیٹل میڈیا کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں، تاکہ وہ خود بھی سمجھداری سے اس کا استعمال کر سکیں۔ یہ ایک مسلسل کوشش ہے، جس میں صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔

س: بچے والدین کے ساتھ اپنے مسائل بغیر کسی خوف کے شیئر کر سکیں، اس کے لیے ایک دوستانہ اور محفوظ ماحول کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

ج: یہ وہ بنیادی ضرورت ہے جو ہر بچہ چاہتا ہے کہ اس کے والدین اسے فراہم کریں۔ میرے تجربے میں، بچے صرف اسی وقت کھل کر بات کرتے ہیں جب انہیں یہ یقین ہو کہ انہیں سمجھا جائے گا، نہ کہ ان پر تنقید کی جائے گی۔ سب سے پہلے تو اپنے گھر میں ایک ایسا ماحول بنائیں جہاں بچے کو یہ آزادی ہو کہ وہ کوئی بھی بات، کیسی بھی بات، آپ کے ساتھ شیئر کر سکے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب بچے کوئی غلطی کرتے ہیں یا کوئی مشکل میں ہوتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے والدین کے غصے کا خوف ہوتا ہے۔ اس خوف کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ جب بچہ آپ کے پاس کوئی مسئلہ لے کر آئے تو سب سے پہلے اسے اطمینان دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں اور اس کی بات سنیں گے۔ اس کی بات کو کاٹیں مت اور نہ ہی فوراً کوئی فیصلہ صادر کریں۔ اسے حل تلاش کرنے میں مدد دیں بجائے اس کے کہ صرف اس پر ناراض ہو جائیں۔ ہنسی مذاق کریں، ساتھ میں کھانا کھائیں، اور چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کریں تاکہ بچے کو آپ کے ساتھ ایک دوستانہ اور آرام دہ تعلق محسوس ہو۔ یاد رکھیں، اعتماد ایک دن میں نہیں بنتا، یہ مسلسل محبت، احترام اور سمجھ بوجھ کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔

Advertisement