بچوں کے ساتھ مشترکہ اہداف طے کرنے کے وہ راز جو ہر کامیاب گھرانے کو معلوم ہیں!

webmaster

아이와의 공동 목표 설정 - **Prompt:** A heartwarming scene featuring a Pakistani family (father, mother, and two children, a b...

میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آج کل کے مصروف دور میں والدین اور بچوں کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانا کتنا ضروری ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ مشترکہ اہداف طے کرتے ہیں تو یہ صرف ان کے مستقبل کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانی رشتے کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جہاں بچے ذمہ داری سیکھتے ہیں، ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی رائے کی اہمیت ہے۔ یہ صرف پڑھائی یا کھیل کود کے اہداف کی بات نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی روزمرہ کی چیزوں میں بھی ہم ساتھ مل کر فیصلے کر سکتے ہیں۔ اس سے بچوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ گھر کے اہم رکن ہیں اور ان کے خوابوں اور ارادوں کو پورا کرنے میں ہماری پوری حمایت حاصل ہے۔ اس نئے دور میں جہاں ہر طرف سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی بھرمار ہے، ایک ساتھ بیٹھ کر ان اہداف کو حاصل کرنے کا سفر حقیقت میں ایک انمول تجربہ بن سکتا ہے۔ اس سے ان میں اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجربہ نہ صرف آپ کے بچوں کو کامیاب بنائے گا بلکہ آپ کے خاندان میں پیار اور افہام و تفہیم کا رشتہ بھی گہرا کرے گا۔ آئیے، اسی بارے میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں۔

아이와의 공동 목표 설정 관련 이미지 1

بچوں کے ساتھ اہداف کا تعین: ایک خوبصورت سفر کا آغاز

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب والدین اور بچے مل کر اہداف طے کرتے ہیں، تو یہ ان کے رشتے کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔ یہ صرف بچوں کی کامیابی کی بات نہیں، بلکہ ایک ایسا رشتہ بنتا ہے جہاں اعتماد، محبت اور افہام و تفہیم کی مضبوط بنیاد رکھی جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اپنے بیٹے کے ساتھ اسکول کے ایک پراجیکٹ کے لیے کچھ اہداف مقرر کیے تھے۔ ہم نے ہفتہ وار منصوبہ بنایا، ہر مرحلے پر اس کی پیش رفت کو دیکھا اور جب وہ کامیاب ہوا، تو اس کی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ یہ ایک ایسا احساس تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ صرف اس کی کامیابی نہیں تھی، بلکہ ہماری مشترکہ کامیابی تھی، ہمارے رشتے کی جیت تھی۔ جب آپ بچوں کو اس عمل میں شامل کرتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ ان کی رائے کی اہمیت ہے، وہ خود کو ذمہ دار محسوس کرتے ہیں اور ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے فیصلوں کے مالک بنتے ہیں اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ پاتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسا انمول تجربہ ہے جو بچوں کو نہ صرف مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے، بلکہ خاندانی تعلقات کو بھی گہرا کرتا ہے۔

مشترکہ اہداف کی اہمیت کو سمجھنا

بچوں کی خود اعتمادی میں اضافہ

مشترکہ اہداف: اعتماد کی مضبوط بنیاد

Advertisement

جب ہم بچوں کے ساتھ مل کر اہداف بناتے ہیں، تو اس میں سب سے اہم بات اعتماد کا عنصر ہوتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کی بات سنتے ہیں، ان کے خوابوں اور خواہشات کو سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے فیصلوں میں شامل کرتے ہیں، تو وہ ہم پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ یہ صرف پڑھائی یا کیریئر کے اہداف تک محدود نہیں ہے، بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی مشترکہ اہداف بنا کر ہم یہ اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گھر کے کاموں کو تقسیم کرنا، چھٹیوں کا منصوبہ بنانا یا کوئی نیا ہنر سیکھنا۔ ان تمام کاموں میں بچوں کو شامل کرنے سے انہیں اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم نے مل کر اپنے باغیچے میں سبزی اگانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ میرے بچوں نے مٹی تیار کرنے سے لے کر بیج بونے اور پانی دینے تک ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف پودوں کی نشوونائی کے بارے میں سیکھا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا بھی سیکھا۔ یہ ایک چھوٹا سا ہدف تھا، لیکن اس نے ہمارے خاندانی رشتے کو مزید مضبوط کیا۔ یہ انمول تجربات ہی ہمارے رشتوں کی بنیاد بنتے ہیں۔

والدین اور بچوں کے درمیان افہام و تفہیم

ذمہ داری کا احساس کیسے پیدا کریں

روزمرہ کی چھوٹی کامیابیاں: بڑے خوابوں کا راستہ

کئی بار ہم بڑے اہداف کے چکر میں چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ یہ چھوٹی کامیابیاں ہی بچوں کو بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حاصل کرنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ جب کوئی بچہ اپنا ہوم ورک وقت پر مکمل کرتا ہے، یا اپنے کھلونے خود سمیٹتا ہے، تو یہ اس کے لیے ایک چھوٹی سی کامیابی ہے۔ ان کامیابیوں پر اسے سراہنا بہت ضروری ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری چھوٹی بیٹی نے پہلی بار بغیر مدد کے اپنی سائیکل چلانا سیکھی تھی۔ اس کے لیے یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور ہم سب نے اسے خوب سراہا۔ اس دن اس کے چہرے پر جو خوشی تھی، اس نے اسے مزید بڑے کام کرنے کی ترغیب دی۔ ان چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کے ذریعے بچے یہ سیکھتے ہیں کہ محنت کا پھل ضرور ملتا ہے اور یہ کہ مستقل مزاجی سے کام کرنے سے کوئی بھی ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ان کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر وہ اپنے مستقبل کے بڑے اہداف کی عمارت تعمیر کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو بچوں میں خود تنظیمی اور صبر کی عادت ڈالتا ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں ان کے کام آتی ہے۔

چھوٹے اہداف کی اہمیت

پیش رفت کو سراہنے کے طریقے

ناکامی کا سامنا: ہمت اور لچک کا درس

Advertisement

زندگی ہمیشہ سیدھی نہیں چلتی، اور بچوں کو بھی اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے تجربے میں، اہداف کے حصول کے دوران ناکامی کا سامنا کرنا بھی ایک بہت بڑا سبق ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم انہیں ناکامی کو کس طرح دیکھتے ہیں اور اس سے کیسے سیکھتے ہیں۔ جب کوئی بچہ کسی ہدف میں کامیاب نہیں ہوتا، تو یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے مایوس ہونے کی بجائے، دوبارہ کوشش کرنے کی ترغیب دیں۔ مجھے یاد ہے جب میرے بیٹے نے ایک تقریری مقابلے میں حصہ لیا تھا اور وہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ وہ بہت مایوس ہوا، لیکن میں نے اسے سمجھایا کہ اصل کامیابی جیتنے میں نہیں بلکہ حصہ لینے اور اپنی پوری کوشش کرنے میں ہے۔ ہم نے مل کر اس کی خامیوں پر غور کیا اور آئندہ کے لیے بہتر تیاری کا منصوبہ بنایا۔ اس تجربے نے اسے ہار ماننا نہیں سکھایا، بلکہ ہمت اور لچک کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا۔ یہ مہارتیں زندگی بھر اس کے کام آئیں گی۔ بچوں کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ ناکامی صرف ایک قدم ہے کامیابی کی سیڑھی کا۔

ناکامی کو قبول کرنا

لچک اور دوبارہ کوشش کرنے کی اہمیت

ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال: اہداف کی راہ میں مددگار

آج کل کی دنیا میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے، اور ہم اسے بچوں کے اہداف کے حصول میں بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ اگر اسے سمجھداری سے استعمال کیا جائے تو یہ ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، بچوں کے لیے تعلیمی ایپس، آن لائن کورسز یا معلوماتی ویڈیوز کا استعمال۔ ہم بچوں کے ساتھ مل کر یہ اہداف بنا سکتے ہیں کہ وہ دن میں کتنا وقت سکرین پر گزاریں گے اور اس وقت کا استعمال کس طرح کریں گے۔ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی ایک آن لائن کوڈنگ کورس کر رہی تھی، تو ہم نے اس کے ساتھ ایک ٹائم ٹیبل بنایا تھا کہ وہ کب اور کتنا وقت اس پر لگائے گی۔ اس سے اس نے نہ صرف کوڈنگ سیکھی بلکہ وقت کی پابندی بھی سیکھی۔ یہ صرف پڑھائی تک محدود نہیں، بلکہ ہم صحت سے متعلق اہداف کے لیے بھی فٹنس ٹریکرز یا ہیلتھ ایپس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو ایک آلے کے طور پر استعمال کریں جو ہمارے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد دے، نہ کہ یہ ہماری توجہ بھٹکانے کا ذریعہ بنے۔

سکرین ٹائم کا موثر استعمال

تعلیمی ایپس اور وسائل

والدین کی فعال شرکت: بچوں کی کامیابی کی کنجی

Advertisement

بچوں کے اہداف کے سفر میں والدین کی فعال شرکت سب سے اہم ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، تو بچوں میں بہت زیادہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صرف نگرانی کرنے کی بات نہیں ہے، بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کی پیش رفت کو دیکھنا، ان کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری بھانجی نے ایک اسکول پروجیکٹ پر کام کیا تھا، تو میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کر تحقیق میں مدد کی، خیالات کو منظم کرنے میں رہنمائی کی اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ میرا کام صرف مدد کرنا تھا، نہ کہ سارا کام خود کرنا۔ اس سے اسے احساس ہوا کہ میں اس کے ساتھ کھڑی ہوں اور اس کی کامیابی میری بھی کامیابی ہے۔ والدین کی یہ فعال شرکت بچوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور ان کے ہر قدم پر ان کے والدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس سے بچوں میں اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور وہ مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ تیار رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا رشتہ بناتا ہے جو محبت اور حمایت سے بھرا ہوتا ہے۔

مستقل نگرانی اور رہنمائی

مثبت رویہ کی اہمیت

خاندانی وقت: ہدف کے حصول میں انمول سرمایہ کاری

آج کل کی مصروف زندگی میں، خاص طور پر شہروں میں، خاندانی وقت نکالنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ یہ وقت بچوں کے اہداف کے حصول اور خاندانی رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک انمول سرمایہ کاری ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، کھیل کھیلتے ہیں یا صرف خاموشی سے وقت گزارتے ہیں، تو یہ ان کے لیے ایک محفوظ اور پیار بھرا ماحول فراہم کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم ہفتے میں ایک بار رات کے کھانے پر اکٹھے ہوتے تھے اور ہر کوئی اپنے دن بھر کی سرگرمیوں اور چھوٹے بڑے اہداف کے بارے میں بات کرتا تھا۔ اس سے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا تھا اور ہم ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہوتے اور مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ یہ وقت صرف تفریح کا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جہاں ہم بچوں کے ساتھ ان کے خوابوں اور مستقبل کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، انہیں حوصلہ دے سکتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہر قدم پر ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جو خاندانی یادیں بناتا ہے اور رشتے کی جڑیں گہری کرتا ہے۔

اہداف کا شعبہ مثالیں (بچوں کے لیے) والدین کی شرکت
پڑھائی ہوم ورک مکمل کرنا، امتحانات کی تیاری مطالعہ کے لیے وقت مقرر کرنا، سوالات کے جواب دینا، حوصلہ افزائی
صحت اور تندرستی ورزش کرنا، صحت بخش کھانا کھانا ایک ساتھ ورزش کرنا، صحت بخش کھانا تیار کرنا
نئے ہنر سیکھنا موسیقی کا آلہ بجانا، نئی زبان سیکھنا کورسز یا استاد کا انتخاب، مشق میں مدد کرنا
گھر کے کام کمرے کی صفائی، کپڑے تہہ کرنا کاموں کی تقسیم، رہنمائی اور سراہنا
ذاتی ترقی کتابیں پڑھنا، مثبت سوچ مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا، گفتگو کرنا

معیاری خاندانی وقت کے فوائد

مشترکہ سرگرمیاں اور اہداف

아이와의 공동 목표 설정 관련 이미지 2

آخر میں

میرے پیارے قارئین، مجھے امید ہے کہ بچوں کے ساتھ اہداف مقرر کرنے کے اس خوبصورت سفر پر میری ذاتی رائے اور تجربات آپ کے لیے مفید ثابت ہوئے ہوں گے۔ یہ صرف ایک عمل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہم اپنے بچوں کے ساتھ مل کر سیکھتے ہیں، بڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کی رہنمائی محبت اور حکمت سے کرتے ہیں، تو وہ نہ صرف اپنے اہداف حاصل کرتے ہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کی نئی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا منافع پوری زندگی ملتا رہتا ہے، ایک خوشحال اور مضبوط خاندان کی صورت میں۔ تو چلیے، آج ہی اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کچھ نئے اہداف طے کریں اور ایک ساتھ کامیابی کی طرف بڑھیں۔

Advertisement

مزید مفید معلومات

1. اپنے بچوں کے ساتھ اہداف کا تعین کرتے وقت ہمیشہ چھوٹے اور قابل حصول اہداف سے آغاز کریں تاکہ ان میں کامیابی کا احساس پیدا ہو۔

2. اہداف کو دلچسپ اور گیم کی شکل میں بنائیں تاکہ بچے اس میں خود بخود شامل ہوں۔ مثال کے طور پر، اسٹیکر چارٹ یا چھوٹے انعامات کا نظام۔

3. باقاعدگی سے اپنے بچوں کے ساتھ ان کی پیش رفت پر بات کریں، انہیں سراہئیں اور ان کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

4. بچوں کو یہ سکھائیں کہ ناکامی کوئی انتہا نہیں، بلکہ یہ سیکھنے کا ایک موقع ہے۔ انہیں دوبارہ کوشش کرنے کی ترغیب دیں۔

5. والدین خود بھی اپنے اہداف مقرر کریں اور انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ بچے آپ کو ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھ سکیں۔

چند اہم باتیں

یاد رکھیں، بچوں کے ساتھ اہداف کا تعین کرنا دراصل ایک ایسا پل تعمیر کرنا ہے جو اعتماد، افہام و تفہیم اور محبت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ یہ نہ صرف انہیں کامیاب بناتا ہے بلکہ آپ کے خاندانی رشتے میں بھی ایک انمول اضافہ کرتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو سراہنا اور ناکامیوں سے سیکھنا کتنا ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال اور والدین کی فعال شرکت اس سفر کو اور بھی آسان بنا دیتی ہے۔ آخر میں، خاندانی وقت کو اہداف کے حصول کا ایک اہم حصہ بنائیں کیونکہ یہی وہ وقت ہے جہاں حقیقی رشتے بنتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ تو دیر کس بات کی، اپنے بچوں کے ساتھ اس خوبصورت سفر کا آغاز کریں!

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: بچوں کے ساتھ اہداف مقرر کرنے کا آغاز کیسے کیا جائے؟

ج: یہ پہلا قدم ہے اور اکثر والدین کے لیے سب سے مشکل۔ سب سے پہلے، ایک پرسکون ماحول میں اپنے بچے کے ساتھ بیٹھیں۔ ٹی وی یا موبائل فون کی پریشانیوں سے بچیں۔ ایک بات یاد رکھیں، یہ آپ کا لیکچر سیشن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک دوستانہ گفتگو۔ بچے سے پوچھیں کہ وہ کن چیزوں کے بارے میں پرجوش ہے، وہ اسکول میں، کھیلوں میں، یا گھر کے کاموں میں کیا نیا کرنا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر، میرا بیٹا شروع میں ہچکچا رہا تھا، لیکن جب میں نے اس سے اس کی پسندیدہ گیم کے بارے میں پوچھا اور پھر اسے اس سے جوڑا کہ کیسے چھوٹے اہداف اس گیم میں بھی کامیاب ہونے میں مدد کرتے ہیں، تو وہ کھل گیا۔ ایک چھوٹے سے، قابل حصول ہدف سے شروع کریں، جیسے روزانہ 15 منٹ پڑھنا یا اپنے کھلونے خود سمیٹنا۔ بچے کو یہ احساس دلائیں کہ اس کا ہر چھوٹا قدم کامیابی کی طرف ہے۔ جب وہ محسوس کرے گا کہ اس کے اہداف اس کے اپنے ہیں، تو وہ زیادہ جوش سے کام کرے گا۔ یہ ایک سفر ہے، کوئی مقابلہ نہیں۔

س: بچوں کے لیے کس قسم کے اہداف مناسب ہوتے ہیں؟

ج: اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں ہے کیونکہ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے۔ لیکن میرے تجربے میں، اہداف SMART ہونے چاہییں۔ یعنی Specific (واضح)، Measurable (قابل پیمائش)، Achievable (قابل حصول)، Relevant (متعلقہ)، اور Time-bound (وقت کے ساتھ منسلک)۔ چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے، روزمرہ کی عادات سے متعلق اہداف بہترین ہوتے ہیں، جیسے دانت برش کرنا، بستر ٹھیک کرنا، یا اپنی پسندیدہ کہانی کی کتاب خود پڑھنا۔ جب بچے بڑے ہوتے ہیں، تو اہداف تھوڑے بڑے ہو سکتے ہیں، جیسے کسی خاص مضمون میں بہتر گریڈ حاصل کرنا، کسی کھیل میں نئی مہارت سیکھنا، یا کسی کمیونٹی سروس پروجیکٹ میں حصہ لینا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اہداف بچے کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کے مطابق ہوں۔ اگر آپ کا بچہ آرٹ میں اچھا ہے تو اسے آرٹ کے متعلق کوئی ہدف دیں۔ اگر وہ پڑھائی میں کمزور ہے، تو ایک ساتھ بیٹھ کر سمجھیں کہ کہاں مشکل آ رہی ہے اور اس کے لیے ایک چھوٹا سا ہدف بنائیں۔ یاد رکھیں، ہدف کو چیلنجنگ ہونا چاہیے، لیکن اتنا نہیں کہ بچہ ہمت ہار جائے۔

س: اگر بچہ اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے یا دلچسپی کھو دے تو کیا کریں؟

ج: یہ ایک بہت عام صورتحال ہے اور اکثر والدین اس سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے، بچے کو یہ احساس نہ دلائیں کہ اس نے کوئی بڑی غلطی کی ہے۔ ناکامی سیکھنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں نے خود اپنی بیٹی کے ساتھ کئی بار یہ تجربہ کیا ہے۔ جب وہ ایک ہدف حاصل نہیں کر پائی، تو میں نے اسے ڈانٹنے کے بجائے، اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا غلط ہوا۔ کیا ہدف بہت مشکل تھا؟ کیا اس کے پاس کافی وسائل نہیں تھے؟ یا وہ صرف بور ہو گئی تھی؟ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہے کہ ناکامی ایک اختتام نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا موقع ہے۔ ہم اہداف کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں، انہیں چھوٹے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، یا بالکل نیا ہدف بھی بنا سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو حوصلہ دیتے رہیں اور اس پر اپنا اعتماد ظاہر کریں۔ اسے بتائیں کہ آپ ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں اور اس کی ہر کوشش کی قدر کرتے ہیں۔ اس سے بچے میں لچک پیدا ہوتی ہے اور وہ مستقبل میں مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ہماری حمایت ان کے لیے سب سے بڑی طاقت ہے۔

Advertisement