اپنے بچوں کو سمجھنا اور ان کی بہترین پرورش کرنا، ہم سب والدین کے لیے ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے جیسے ان کے چھوٹے سے دماغ میں ایک پوری دنیا چھپی ہوتی ہے، اور ہمیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ ان کے غصے، ضد یا خاموشی کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ میرے اپنے تجربے سے میں نے سیکھا ہے کہ پیار اور سمجھ بوجھ کے ساتھ صحیح تربیت کے طریقے کتنے اہم ہیں۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں ہر چیز بدل رہی ہے، یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی نفسیات کو جانیں اور انہیں صحیح راستے پر لے آئیں۔ تو چلیں، آئیے اس بارے میں مزید گہرائی سے بات کرتے ہیں۔
بچوں کے رویے کی گہرائیوں کو سمجھنا

میرے خیال میں بچوں کو سمجھنا ایک ایسا فن ہے جو مسلسل سیکھنے سے آتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اکثر ہم ان کے ظاہری رویے کو دیکھتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی گہری وجوہات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جیسے میرا بیٹا جب چھوٹا تھا، اگر کسی دن وہ بہت ضد کرتا تو میں فوراً سوچتی کہ آج اسے کیا ہو گیا ہے۔ بعد میں پتا چلتا کہ یا تو اسے نیند پوری نہیں ملی، یا پھر وہ کسی بات پر پریشان تھا۔ یہ صرف ضد نہیں تھی، بلکہ اس کے اندر چھپے جذبات کا اظہار تھا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچے اپنے جذبات کو بڑوں کی طرح الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، اس لیے ان کا رویہ ہی ان کی زبان ہوتا ہے۔ اگر ہم اس زبان کو سمجھنے کی کوشش کریں گے تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو جائیں گی۔ بچوں کے دل میں کیا چل رہا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں ایک جاسوس کی طرح کام کرنا پڑتا ہے، ان کے اشاروں کو پڑھنا پڑتا ہے، ان کی خاموشی کو سننا پڑتا ہے، اور ان کے کھیل میں چھپے پیغامات کو ڈیکوڈ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلسل مشاہدے کا عمل ہے جہاں ہر دن ہمیں اپنے بچوں کے بارے میں کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔
ہر رویے کے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے
یقین مانیں، بچوں کا کوئی بھی رویہ بلا وجہ نہیں ہوتا۔ چاہے وہ غصہ ہو، ضد ہو، خاموشی ہو یا بہت زیادہ چنچل پن، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی محرک ضرور ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب میرا بھانجا اچانک سے بہت بدتمیزی کرنے لگتا تو میری بہن پریشان ہو جاتی تھی، لیکن جب وہ اس سے سکون سے بات کرتی اور اس کی بات سنتی تو پتا چلتا کہ اسے سکول میں کسی بات پر دکھ پہنچا تھا۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو کیسے پہچانیں اور انہیں صحت مند طریقے سے کیسے ظاہر کریں۔ اس کے لیے والدین کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں بچے بغیر کسی ڈر کے اپنے دل کی بات کہہ سکیں۔ یہ عمل ایک دن میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مسلسل محنت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ جب ہم بچوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کی ہر بات کو سنیں گے اور سمجھیں گے، تو وہ کھل کر ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔
جذبات کو سمجھنا اور ان کا اظہار کرنا
بچوں کو اپنے جذبات کو سمجھنے میں مدد کرنا بہت ضروری ہے۔ انہیں یہ بتائیں کہ غصہ آنا، دکھ ہونا، خوش ہونا یا ڈرنا یہ سب عام انسانی جذبات ہیں۔ میرے دوست کے بیٹے کو جب کوئی بات بری لگتی تھی تو وہ اسے اندر ہی اندر گھٹتا رہتا تھا، جس کی وجہ سے اس کی پڑھائی بھی متاثر ہو رہی تھی۔ اس کی ماں نے اسے سکھایا کہ وہ اپنے جذبات کو تصویریں بنا کر، یا کسی کھلونے کو اپنی بات بتا کر ظاہر کرے۔ آہستہ آہستہ وہ الفاظ میں بھی اپنی بات کہنے لگا۔ ہمیں بچوں کو ان جذبات کا نام بتانا چاہیے، جیسے “آپ کو غصہ آ رہا ہے” یا “آپ دکھی لگ رہے ہو” تاکہ وہ ان کو پہچان سکیں۔ اس سے وہ نہ صرف اپنے جذبات کو سمجھ پائیں گے بلکہ دوسروں کے جذبات کا بھی احترام کرنا سیکھیں گے۔ جذباتی ذہانت بچوں کی مستقبل کی کامیابیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
موثر مواصلت کی بنیاد رکھنا
بچوں کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کرنے کے لیے مواصلت کی بنیاد مضبوط ہونی چاہیے۔ میں نے ذاتی طور پر محسوس کیا ہے کہ جب ہم ان سے چھوٹے بچوں کی طرح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ شخص کی طرح بات کرتے ہیں تو وہ زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ میرے بھتیجے کے والد کی عادت ہے کہ وہ ہر بات بچے کی سطح پر آ کر کرتے ہیں، اس سے بچہ بہت مطمئن ہوتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے۔ جب بچے اپنے دن کے بارے میں بتائیں تو انہیں پوری توجہ سے سنیں، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں، اور اپنے فون یا کسی اور کام میں مصروف نہ ہوں۔ صرف سننا کافی نہیں، بلکہ ان کی باتوں پر سوالات پوچھیں، انہیں احساس دلائیں کہ ان کی رائے اہم ہے۔ اس سے ان میں بات کرنے کا اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ مستقبل میں بھی آپ کے ساتھ اپنی پریشانیاں شیئر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ یاد رکھیں، صرف حکم دینا یا لیکچر دینا مواصلت نہیں، بلکہ دو طرفہ بات چیت مواصلت کہلاتی ہے۔
سرگرم سماعت کی طاقت
سرگرم سماعت کا مطلب ہے صرف سننا نہیں بلکہ سمجھنا۔ جب آپ کا بچہ کوئی بات بتا رہا ہو، تو اس کے الفاظ پر غور کریں، اس کے لہجے کو سمجھیں اور اس کے غیر زبانی اشاروں پر بھی دھیان دیں۔ میری سہیلی کا چھوٹا بیٹا اکثر چیزیں توڑ پھوڑ کر اپنی بات منواتا تھا۔ اس کی سہیلی نے اسے غور سے سننا شروع کیا، تو اسے پتہ چلا کہ بچہ دراصل توجہ چاہتا تھا اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد میری سہیلی نے اسے وقت دینا شروع کیا اور اس کی ہر بات کو غور سے سنا۔ اس سے بچے کے رویے میں حیرت انگیز تبدیلی آئی۔ جب آپ سرگرم سماعت کرتے ہیں تو بچے کو لگتا ہے کہ وہ اہم ہے اور اس کی بات کی قدر کی جا رہی ہے۔ اس سے وہ محفوظ محسوس کرتا ہے اور آپ کے ساتھ مزید کھل کر بات کرنے لگتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو والدین کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔
سوالات پوچھنا جو سوچنے پر مجبور کریں
بچوں سے ایسے سوالات پوچھیں جو انہیں ہاں یا نہیں میں جواب دینے پر مجبور نہ کریں، بلکہ انہیں سوچنے کا موقع دیں۔ مثلاً “آج سکول میں تمہارا پسندیدہ لمحہ کیا تھا؟” یا “اگر تم کسی صورتحال کو بدل سکتے تو کیا کرتے؟” ایسے سوالات بچوں کو اپنی سوچ کو الفاظ میں ڈھالنے کا موقع دیتے ہیں۔ میرے تجربے میں، جب میں نے اپنی بھانجی سے پوچھا کہ “تمہارے خیال میں یہ چیز اس طرح کیوں ہوئی؟” تو اس نے اپنی چھوٹی سی دنیا میں چھپے بہت سے دلچسپ خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے نہ صرف اس کی سوچنے کی صلاحیت بہتر ہوئی بلکہ مجھے بھی اس کے نقطہ نظر کو سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ بچوں کو تنقیدی سوچ کی طرف راغب کرتا ہے اور انہیں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
حدود مقرر کرنا اور مستقل مزاجی
بچوں کی پرورش میں حدود مقرر کرنا ایک مشکل لیکن بہت ضروری کام ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے والدین نرم دل ہونے کی وجہ سے بچوں کی ہر ضد مان لیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے خود سر ہو جاتے ہیں۔ میرا اپنا خیال ہے کہ بچے حدود چاہتے ہیں۔ انہیں یہ جان کر تحفظ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ لیکن صرف حدود مقرر کرنا کافی نہیں، بلکہ ان پر مستقل مزاجی سے عمل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب ہم ایک دن کوئی اصول بناتے ہیں اور دوسرے دن اسے توڑ دیتے ہیں تو بچے یہ سمجھتے ہیں کہ قوانین قابلِ عمل نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر سونے کا وقت مقرر ہے، تو ہر رات اس پر عمل کریں۔ اگر ایک دن چھوٹ دے دی اور دوسرے دن سختی کی تو بچہ الجھن کا شکار ہو جائے گا اور آپ کی بات کی قدر نہیں کرے گا۔
واضح اور قابل فہم قوانین بنانا
قوانین ایسے ہوں جو بچے کی عمر کے مطابق ہوں اور وہ انہیں آسانی سے سمجھ سکیں۔ میں نے ایک دفعہ اپنے کزن کے بیٹے کے لیے بہت سے پیچیدہ قوانین دیکھے، جو اسے سمجھ ہی نہیں آتے تھے۔ جب انہیں آسان الفاظ میں بیان کیا گیا اور تصویروں کے ذریعے سمجھایا گیا تو بچے نے ان پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ قوانین بناتے وقت بچوں کو بھی شامل کریں۔ ان سے پوچھیں کہ ان کے خیال میں کیا اصول ہونے چاہئیں، اس سے انہیں احساس ہوگا کہ ان کی رائے اہم ہے اور وہ ان قوانین کو اپنا سمجھیں گے۔ انہیں بتائیں کہ ان قوانین کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، مثلاً “ہم رات کو جلدی سوتے ہیں تاکہ صبح تازہ دم اٹھ سکیں اور سکول جا سکیں۔” یہ طریقہ کار بچوں کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔
مستقل مزاجی کی اہمیت
مستقل مزاجی کا مطلب ہے کہ جو اصول آج ہیں، وہ کل بھی ہوں گے اور پرسوں بھی۔ میرے اپنے تجربے سے میں نے سیکھا ہے کہ اگر میں نے کسی بات پر ایک دفعہ “نہیں” کہا ہے، تو اس پر قائم رہنا چاہیے۔ ورنہ بچہ سمجھ جاتا ہے کہ اگر وہ زیادہ دیر تک ضد کرے گا تو اسے اپنی بات منوانے کا موقع مل جائے گا۔ یہ والدین کے لیے صبر آزما ہوتا ہے، لیکن اس کے نتائج بہت اچھے ہوتے ہیں۔ مستقل مزاجی بچوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے اور انہیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ان کے رویے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ انہیں نظم و ضبط سکھاتی ہے اور انہیں ایک مستحکم ماحول فراہم کرتی ہے جہاں وہ پروان چڑھ سکیں۔
مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی کیسے کریں؟
ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھے اخلاق اور مثبت رویے اپنائیں۔ میں نے یہ بات کئی بار دیکھی ہے کہ بچے تعریف اور حوصلہ افزائی سے بہت جلدی سیکھتے ہیں۔ جب میرا چھوٹا بھائی کوئی اچھا کام کرتا تھا اور میری امی اسے “شاباش بیٹا، تم نے کتنا اچھا کام کیا!” کہتی تھیں، تو اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی تھی۔ یہ صرف ایک تعریف نہیں تھی، بلکہ یہ اس کی حوصلہ افزائی تھی کہ وہ مزید اچھے کام کرے۔ ہمیں صرف غلطیوں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کے اچھے کاموں کو بھی سراہنا چاہیے، چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی محنت کو پہچانا جا رہا ہے۔ مثبت تقویت (Positive Reinforcement) ایک طاقتور ذریعہ ہے جو بچوں کو صحیح راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔
تعریف اور انعام کا صحیح استعمال
تعریف سچی اور مخصوص ہونی چاہیے۔ صرف “اچھا بچہ” کہنے کے بجائے، انہیں بتائیں کہ “تم نے اپنے کھلونے کتنی صفائی سے سمیٹے ہیں، بہت اچھے!”۔ یہ بچوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ انہوں نے کیا صحیح کیا ہے۔ انعامات بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن وہ مادی چیزوں کے بجائے تجربات پر مبنی ہوں تو بہتر ہے۔ مثلاً، اگر بچے نے اچھا رویہ دکھایا ہے تو اسے اس کی پسند کی کوئی کتاب پڑھ کر سنائیں، یا اس کے ساتھ اس کے پسندیدہ کھیل کو تھوڑی دیر زیادہ کھیلیں۔ میرا ایک کزن اپنے بچوں کے لیے ایک ‘گڈ بیہیویئر چارٹ’ بناتا تھا، اور جب چارٹ بھر جاتا تو بچے اپنے پسندیدہ پیزا پارٹی کا انعام پاتے تھے۔ اس سے وہ ایک مقصد کے لیے کام کرنا سیکھتے تھے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ انعام کا استعمال اعتدال میں کیا جائے، تاکہ بچے صرف انعام کی خاطر اچھا رویہ نہ دکھائیں بلکہ اندرونی طور پر اچھے بنیں۔
مثبت ماحول کی تشکیل
بچوں کے لیے گھر کا ماحول مثبت اور پرسکون ہونا چاہیے۔ اگر گھر میں اکثر جھگڑے یا تناؤ رہتا ہے، تو بچے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ پرسکون گھروں کے بچے زیادہ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی اپنے غصے اور جذبات کو کنٹرول کرنا سیکھیں۔ بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر آپ ان سے چاہتے ہیں کہ وہ نرمی سے بات کریں، تو آپ کو خود بھی ان سے نرمی سے بات کرنی ہوگی۔ انہیں پیار اور تحفظ کا احساس دلائیں تاکہ وہ کھل کر اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔ اس کے علاوہ، انہیں تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں، جیسے کہ پینٹنگ، کہانیاں سنانا، یا باغ میں کام کرنا۔ یہ ان کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔
| رویے کی پہچان | والدین کا ردعمل | طویل مدتی اثرات |
|---|---|---|
| غصہ یا چڑچڑاپن | پر سکون رہیں، وجہ پوچھیں، سننے کی کوشش کریں | بچہ جذبات پر قابو پانا سیکھتا ہے، اعتماد بڑھتا ہے |
| ضد کرنا | مستقل مزاجی سے حدود پر قائم رہیں، متبادل پیش کریں | ضد میں کمی، قواعد کی پابندی سیکھتا ہے |
| خاموشی یا تنہائی | پیار سے بات کریں، کھیل کے ذریعے اظہار کا موقع دیں | جذبات کا اظہار سیکھتا ہے، سماجی مہارتیں بڑھتی ہیں |
| اچھا رویہ یا تعاون | فوراً تعریف کریں، خصوصی توجہ دیں، حوصلہ افزائی کریں | مثبت رویے میں اضافہ، خود اعتمادی میں بہتری |
غصے اور جذباتی طوفان کا سامنا

بچوں کے غصے اور جذباتی طوفان (Tantrums) کو سنبھالنا شاید والدین کے لیے سب سے مشکل چیلنج ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میری چھوٹی بہن غصے میں ہوتی تھی تو وہ زمین پر لوٹ پوٹ ہو جاتی تھی۔ اس وقت ایسا لگتا تھا جیسے دنیا ختم ہونے والی ہے! لیکن میرے والد صاحب نے مجھے سکھایا کہ ایسے وقت میں پرسکون رہنا کتنا ضروری ہے۔ اگر ہم بھی ان کے ساتھ غصہ کرنا شروع کر دیں گے تو صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔ بچے اکثر تھکاوٹ، بھوک یا کسی بات پر مایوسی کی وجہ سے ایسے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ بچے کی جانب سے اپنے جذبات کا اظہار ہے، بھلے ہی یہ غلط طریقے سے ہو۔ ایسے وقت میں بچے کو احساس دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں اور اس کی بات سننے کے لیے تیار ہیں۔
سکون سے صورتحال کو سنبھالنا
جب بچہ غصے میں ہو تو سب سے پہلے خود کو پرسکون رکھیں۔ ایک گہرا سانس لیں اور یاد رکھیں کہ آپ بڑے ہیں اور آپ کو بچے کی رہنمائی کرنی ہے۔ میری کزن کی بیٹی جب بہت غصے میں ہوتی تو وہ اسے ایک الگ جگہ لے جاتی جہاں خاموشی ہو اور اسے کہتی “جب تم سکون محسوس کرو تو میرے پاس آ جانا۔” یہ طریقہ اکثر کام کرتا تھا۔ بچے کو سزا دینے یا اس پر چیخنے کے بجائے، اسے یہ سکھائیں کہ اپنے غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔ اسے گہری سانسیں لینے کا طریقہ سکھائیں، یا اسے بتائیں کہ وہ اپنا غصہ کسی نرم کھلونے کو مکے مار کر نکال سکتا ہے۔ ایسے مواقع بچوں کو جذبات پر قابو پانے کے عملی اسباق سکھاتے ہیں۔
غصے کے بعد بات چیت
جب بچے کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے، تو اس سے سکون سے بات کریں۔ اسے بتائیں کہ اس کا غصہ کرنا ٹھیک ہے، لیکن اسے غلط طریقے سے ظاہر کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے پوچھیں کہ اسے کس بات پر غصہ آیا تھا اور وہ اسے بہتر طریقے سے کیسے بتا سکتا تھا۔ میرے پڑوسی کا بیٹا جب کسی بات پر بہت پریشان ہوتا تھا تو اس کے والدین اسے ایک پیپر اور رنگ دیتے تھے اور اسے کہتے تھے کہ وہ اپنے غصے کو پینٹ کرے۔ بعد میں وہ اس پینٹنگ کے بارے میں بات کرتے تھے۔ اس سے بچے کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور بیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بات چیت بچے کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اس کے جذبات اہم ہیں لیکن ان کا اظہار شائستگی سے ہونا چاہیے۔ اس سے وہ مستقبل میں بہتر طریقے سے ردعمل ظاہر کرنا سیکھتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی رہنمائی
آج کل کا دور ڈیجیٹل دور ہے اور ہمارے بچے اس دنیا کا حصہ ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے بچے ہم سے بھی زیادہ اسکرین ٹائم گزارتے ہیں، جو کبھی کبھی تشویش کا باعث بن جاتا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم انہیں مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا سے دور نہیں رکھ سکتے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم انہیں ایک محفوظ اور متوازن طریقے سے اس دنیا میں رہنمائی کیسے دیں۔ میرے دوست کی بیٹی اکثر موبائل پر گیمز کھیلتی تھی اور اس سے بات کرنا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ اس کے والدین نے وقت مقرر کیا اور اس کے لیے تعلیمی ایپس اور پروگرام منتخب کیے، اور آہستہ آہستہ اس کا اسکرین ٹائم بھی کم ہوا اور اسے نئی چیزیں سیکھنے کا موقع بھی ملا۔
متوازن اسکرین ٹائم کا انتظام
اسکرین ٹائم کا انتظام کرنا بہت اہم ہے۔ ایک دن میں کتنی دیر تک بچے اسکرین کا استعمال کر سکتے ہیں، یہ طے کریں۔ اور اس پر سختی سے عمل کریں۔ میرا مشورہ ہے کہ ایک جدول بنائیں جس میں اسکرین ٹائم کے ساتھ ساتھ پڑھائی، کھیل کود، اور گھر کے کاموں کا بھی وقت مقرر ہو۔ رات کو سونے سے پہلے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے سے اسکرین بند کر دیں۔ اس کے علاوہ، صرف وقت کی مقدار پر ہی نہیں بلکہ مواد کے معیار پر بھی دھیان دیں۔ بچوں کو ایسی ایپس اور گیمز کھیلنے دیں جو تعلیمی ہوں یا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ والدین خود بھی بچوں کے سامنے اپنے اسکرین کا استعمال کم کریں۔ کیونکہ بچے ہمیشہ بڑوں کی نقالی کرتے ہیں۔
آن لائن حفاظت اور ذمہ داری
بچوں کو آن لائن حفاظت کے بارے میں بتانا بہت ضروری ہے۔ انہیں سکھائیں کہ اجنبیوں سے بات نہ کریں، اپنی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں، اور اگر کوئی چیز انہیں پریشان کرے تو فوراً آپ کو بتائیں۔ میری بھتیجی کو جب ایک دفعہ کسی آن لائن گیم میں کسی نے نامناسب بات کی تو اس نے فوراً اپنی ماں کو بتایا، جس کی وجہ سے بروقت کارروائی ہو سکی۔ بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ آپ ان کے ساتھ ہیں اور آپ ان کی ہر بات کو سنیں گے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر سائٹس اور ایپس کو دیکھیں، اور انہیں یہ سکھائیں کہ آن لائن دنیا میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ ہر چیز جو وہ آن لائن دیکھتے ہیں وہ سچ نہیں ہوتی۔ یہ انہیں ڈیجیٹل دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔
خود اعتمادی پیدا کرنا اور آزادی دینا
بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنا اور انہیں آزادی دینا ان کی صحت مند نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو بچے چھوٹی عمر سے ہی کچھ ذمہ داریاں لیتے ہیں وہ زیادہ خود مختار اور پراعتماد ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست کی چھوٹی بیٹی گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں اپنی ماں کی مدد کرتی تھی، جیسے اپنی چیزیں خود سمیٹنا یا پودوں کو پانی دینا۔ ان چھوٹے چھوٹے کاموں سے اس میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ کوئی مفید کام کر رہی ہے اور اس کی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ ہر چھوٹی چیز میں ان کی مدد کرنا انہیں کمزور بناتا ہے اور ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔
ذمہ داری کا احساس دلانا
بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذمہ داریاں سونپیں۔ یہ گھر کے چھوٹے موٹے کام ہو سکتے ہیں جیسے اپنا بستر ٹھیک کرنا، اپنے کھلونے سنبھالنا، یا اپنے پالتو جانور کی دیکھ بھال کرنا۔ جب بچے ان ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں تو انہیں کامیابی کا احساس ہوتا ہے اور ان میں خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ یہ انہیں زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔ میری کزن نے اپنے چھوٹے بیٹے کو اپنا ‘پالتو پودا’ دیا تھا، جس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کی تھی۔ اس سے بچہ نہ صرف ذمہ دار بنا بلکہ اسے قدرت سے بھی لگاؤ پیدا ہوا۔ بچوں کو ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں اور ان کی تعریف کریں۔
اپنی مرضی سے انتخاب کرنے کا موقع دینا
بچوں کو اپنی مرضی سے انتخاب کرنے کا موقع دیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے انتخاب ہو سکتے ہیں جیسے وہ آج کون سے کپڑے پہننا چاہتے ہیں، یا وہ ناشتے میں کیا کھانا پسند کریں گے۔ ان چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی رائے اہم ہے اور وہ اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ میرے تجربے میں، جب بچوں کو انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے، تو وہ زیادہ تعاون کرتے ہیں۔ یہ انہیں فیصلہ کرنے کی صلاحیت سکھاتا ہے اور انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ایک فرد ہیں۔ یہ خود اعتمادی پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس سے وہ اپنی پسند اور ناپسند کو پہچاننا بھی سیکھتے ہیں۔
글을 마치며
میرے پیارے قارئین، بچوں کے رویے کو سمجھنا اور انہیں ایک بہتر انسان بنانا ایک مسلسل سفر ہے، جس میں پیار، صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں جو باتیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں، وہ یقیناً آپ کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔ بچوں کی دنیا بہت سادہ ہوتی ہے، ہمیں بس ان کی زبان سمجھنے کی کوشش کرنی ہے، انہیں سننا ہے، اور ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی اہمیت دینی ہے۔ جب ہم انہیں مکمل تحفظ اور اعتماد کا احساس دلاتے ہیں، تو وہ کھل کر اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ کے بچے آپ کے عکس ہیں، اور انہیں بہترین مستقبل دینے کے لیے ہمیں آج ہی بہترین والدین بننا ہوگا۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. بچوں کے ساتھ ہر روز کم از کم 15-20 منٹ معیاری وقت گزاریں، جس میں صرف ان کی بات سنیں اور انہیں مکمل توجہ دیں۔
2. گھر کے لیے کچھ بنیادی اصول بنائیں اور ان پر مستقل مزاجی سے عمل کریں، تاکہ بچے نظم و ضبط سیکھ سکیں۔
3. بچوں کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں اور اچھے رویوں کو سراہنا نہ بھولیں، یہ ان کی خود اعتمادی بڑھاتا ہے۔
4. ڈیجیٹل آلات کے استعمال کے لیے وقت مقرر کریں اور مواد کے انتخاب میں ان کی رہنمائی کریں، تاکہ وہ محفوظ رہیں۔
5. انہیں اپنی عمر کے مطابق چھوٹے موٹے کام سونپیں، تاکہ ان میں ذمہ داری کا احساس اور خود مختاری پیدا ہو۔
중요 사항 정리
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے اور اس کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ بچوں کو سمجھنے کے لیے مشاہدہ، سرگرم سماعت، اور مثبت مواصلت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک مستحکم اور محبت بھرا ماحول فراہم کرنا، حدود مقرر کرنا، اور مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا ان کی صحت مند نشوونما کے لیے بے حد اہم ہے۔ انہیں غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیں اور انہیں اعتماد دلائیں کہ آپ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: بچوں کی ضد اور غصے سے کیسے نمٹیں؟ اکثر والدین اس صورتحال میں پریشان ہو جاتے ہیں کہ بچہ میری بات نہیں مان رہا یا ہر وقت غصے میں رہتا ہے۔
ج: یہ بالکل عام بات ہے میرے دوستو! میں خود بھی کئی بار اس صورتحال سے گزر چکا ہوں جہاں میرا بچہ بظاہر بلا وجہ غصے میں آ جاتا ہے یا ضد کرنے لگتا ہے۔ اس کے پیچھے اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچہ اپنے احساسات کو صحیح طریقے سے بیان نہیں کر پاتا یا اسے لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جا رہی۔ جب بھی آپ کا بچہ غصے میں آئے یا ضد کرے، سب سے پہلے ایک گہرا سانس لیں اور خود کو پرسکون رکھیں۔ پھر بچے کو توجہ سے سنیں، اسے بولنے کا موقع دیں، چاہے اس کی بات بے تُکی ہی کیوں نہ لگے۔ میرے اپنے تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ جب میں نے اپنے بچے کو یہ احساس دلایا کہ میں اس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں، تو اس کا غصہ خود ہی ٹھنڈا پڑ گیا۔ اسے یہ بتائیں کہ اس کے احساسات جائز ہیں، مثلاً “میں سمجھتا ہوں تمہیں ابھی بہت غصہ آ رہا ہے کیونکہ تمہاری پسند کی چیز نہیں ملی۔” پھر اس کے ساتھ مل کر مسئلے کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات صرف ایک گلے لگا لینا اور پیار سے دو باتیں کر لینا ہی ساری مشکل آسان کر دیتا ہے۔ یاد رکھیں، بچے کے غصے کو دبانے کے بجائے، اسے صحیح طریقے سے ظاہر کرنا سکھانا زیادہ اہم ہے۔
س: بچوں کے ساتھ مضبوط رشتہ کیسے قائم کریں تاکہ وہ کھل کر اپنی باتیں شیئر کر سکیں؟ آج کل کے بچے تو ہم سے سب چھپانے لگے ہیں۔
ج: ہاں، یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے آج کل کے والدین کے لیے کہ ہمارے بچے ہمارے ساتھ آزادانہ طور پر بات چیت کریں۔ مجھے یاد ہے جب میرے بیٹے نے پہلی بار مجھے اپنی کسی غلطی کے بارے میں بتاتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کی تھی، تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس کے ساتھ اپنے رشتے کو مزید گہرا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے سب سے ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کے ساتھ “معیاری وقت” گزاریں۔ صرف جسمانی طور پر موجود رہنا کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ دلی طور پر مشغول ہوں۔ رات کو سونے سے پہلے ان سے دن بھر کی باتیں پوچھیں، کہ آج سکول میں کیا ہوا، دوستوں کے ساتھ کیسا وقت گزرا۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں، چاہے کیسی بھی صورتحال ہو، اور وہ آپ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دیں، ان کی رائے سنیں اور انہیں احترام دیں۔ انہیں یہ سکھائیں کہ غلطیاں کرنا انسانی فطرت ہے، اور ہم سب سیکھتے ہیں۔ جب آپ ان کے لیے ایک محفوظ اور غیر فیصلہ کن ماحول بنائیں گے، تو وہ خود بخود آپ سے سب کچھ شیئر کرنا شروع کر دیں گے۔ میرا مشورہ ہے کہ ہفتے میں ایک بار پورے خاندان کے ساتھ کھانا کھائیں اور اس دوران موبائل فون سے پرہیز کریں، صرف ایک دوسرے سے بات کریں۔
س: بچوں میں اچھی عادات اور نظم و ضبط کیسے پیدا کریں جبکہ مار پیٹ یا سختی سے پرہیز کرنا چاہتے ہیں؟
ج: یقیناً، آج کل کے دور میں ہم سب والدین چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو سختی کے بجائے پیار اور سمجھ بوجھ کے ساتھ سکھائیں، اور مار پیٹ سے بالکل پرہیز کریں۔ میں نے کئی بار یہ تجربہ کیا ہے کہ ایک چھوٹا سا انعام یا تعریف، سختی سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ نظم و ضبط کا مطلب صرف سزا دینا نہیں بلکہ بچے کو صحیح اور غلط کی تمیز سکھانا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے بچے کے ساتھ واضح قوانین بنائیں۔ یہ قوانین مختصر، آسان اور بچے کی عمر کے مطابق ہونے چاہئیں۔ مثلاً، سونے کا وقت کیا ہے، یا کھلونے کہاں رکھنے ہیں۔ جب بچہ ان قوانین پر عمل کرے تو اس کی تعریف کریں، اسے حوصلہ دیں، چاہے وہ صرف ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اگر وہ کوئی غلطی کرے، تو اسے اس کے نتائج سمجھائیں (مثلاً اگر کھلونے نہیں سمیٹے تو آج شام کھیلنے کو نہیں ملیں گے)، نہ کہ غصہ کریں۔ مستقل مزاجی بہت اہم ہے، یعنی آج ایک بات کہی ہے تو کل اس سے پھرنا نہیں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ یہی طریقہ اپنایا ہے اور دیکھا ہے کہ آہستہ آہستہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں، چھوٹے چھوٹے کاموں میں ان کی مدد لیں، اس سے ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ ذمہ دار بنتے ہیں۔






